موضح القرآن

النساء 8

اور جب حاضر ہوں تقسیم کے وقت رشتہ دار اور یتیم اور محتاج تو ان کو کچھ کھلا دو اس میں سے اور کہہ دو ان کو بات معقول [۱۶]

تفسیر
[۱۶]تقسیم میراث کے وقت غریب رشتہ داروں سے سلوک: یعنی تقسیم میراث کے وقت برادری اور کنبہ کے لوگ جمع ہوں تو جو رشتہ دار ایسے ہوں جن کو میراث میں حصہ نہیں پہنچتا یا جو یتیم اور محتاج ہوں ان کو کچھ کھلا کر رخصت کر دیا کوئی چیز ترکہ میں سے حسب موقع ان کو بھی دے دو کہ یہ سلوک کرنا مستحب ہے اور اگر مال میراث میں سے کھلانے یا کچھ دینے کا موقع نہ ہو مثلًا وہ یتیموں کا مال ہے اور میت نے وصیت بھی نہیں کی تو ان لوگوں سے معقول بات کہہ کر رخصت کر دو یعنی نرمی سے عذر کر دو کہ یہ مال یتیموں کا ہے میت نے وصیت بھی نہیں اس لئے ہم مجبور ہیں۔ ابتدائے سورت میں بیان ہو چکا ہے تمام قرابت والے درجہ بدرجہ سلوک اور مراعات کے مستحق ہیں اور یتامیٰ اور مساکین بھی اور جو قریب یتیم یا مسکین بھی ہو تو اس کی رعایت اور بھی زیادہ ہونی چاہئے اس لئے تقسیم میراث کے وقت ان کو حتی الوسع کچھ نہ کچھ دینا چاہئے۔ اگر کسی وجہ سے وارث نہ ہو تو حسن سلوک سے محروم نہ رہیں۔

النساء 11

حکم کرتا ہے تم کو اللہ تمہاری اولاد کے حق میں کہ ایک مرد کا حصہ ہے برابر ہے دو عورتوں کے [۱۹] پھر اگر صرف عورتیں ہی ہوں دو سے زیادہ تو ان کے لئے ہے دو تہائی اس مال سےجو چھوڑ مرا اور اگر ایک ہی ہو تو اس کے لئے آدھا ہے [۲۰] اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کے لئے دونوں میں سے چھٹا حصہ ہے اس مال سے جو کہ چھوڑ مرا اگر میت کے اولاد ہے [۲۱] اور اگر اس کے اولاد نہیں اور وارث ہیں اسکے ماں باپ تو اس کی ماں کا ہے تہائی [۲۲] پھر اگر میت کے کئ بھائی ہیں تو اس کی ماں کا ہے چھٹا حصہ [۲۳] بعد وصیت کے جو کر مرا یا بعد ادائے قرض کے [۲۴] تمہارے باپ اور بیٹے تم کو معلوم نہیں کون نفع پہنچائے تم کو زیادہ حصہ مقرر کیا ہوا اللہ کا ہے بیشک اللہ خبردار ہے حکمت والا [۲۵]

تفسیر
[۱۹]میراث میں اولاد کے حصے: اوپر اقارب میت کے وارث ہونے کا ذکر ہوا تھا اور ان کے حصوں کے تقرر اور تعین کی طرف اجمالی اشارہ فرما دیا تھا اب اقارب اور ان کے حصوں کی تفصیل بتلائی جاتی ہے اور اس سے پہلے سے یتیموں کے حق میں تشدد اور تاکیدات کا ذکر چلا آ رہا تھا جس سے یہ بات بھی معلوم ہو گئ کہ اقارب میت میں اگر کوئی یتیم ہو تو اس کا حصہ دینے میں بہت ہی احتیاط اور اہتمام کر نا چاہئے اہل عرب کی قدیم رسم کے موافق ان کو میراث سے محروم کر دینا سخت ظلم اور بڑا گناہ ہے اب اقارب میں سب سے پہلے اولاد کے حصہ کو بیان فرمایا کہ اگر کسی میت کی اولاد بیٹا بیٹی دونوں ہوں تو ان کی میراث دینے کا یہ قاعدہ ہے کہ ایک بیٹا دو بیٹیوں کے برابر حصہ پائے گا مثلًا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہوں تو نصف مال بیٹے کا اور نصف دونوں بیٹیوں کا ہو گا اور اگر ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہو گی تو دو ثلث بیٹے کا ایک ثلث بیٹی کا ہو گا۔ [۲۰]بیٹیوں کی وراثت کے احکام: یعنی اور اگر کسی میت نے اولاد میں صرف عورتیں یعنی بیٹیاں ہی چھوڑیں بیٹا نہیں چھوڑا تو وہ اگر دو سے زیادہ ہوں تب بھی ان کو دو تہائی ملے گا اور اگر صرف ایک ہی بیٹی چھوڑی تو اس کو میت کے ترکہ کا نصف ملے گا۔ جاننا چاہئے کہ لِلذَّکَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ کے ذیل میں معلوم ہو چکا ہے کہ ایک بیٹی کو ایک بیٹے کے ساتھ ایک ثلث ملے گا تو اس سے معلوم ہو گیا کہ ایک بیٹی کو دوسری بیٹی کے ساتھ بطریق اولیٰ ایک ثلث ملے گا کیونکہ بیٹے کا حصہ بیٹی سے زائد ہے تو جب بیٹے کی وجہ سے اس کا حصہ ایک ثلث سے کم نہیں ہوا تو دوسری بیٹی کی وجہ سےکیسے گھٹ سکتا ہے۔ سو دو بیٹیوں کا حکم چونکہ پہلی آیت سے معلوم ہو چکا تھا اس لئے اس آیت میں دو بیٹیوں سے زائد کا حکم بتلا دیا تاکہ کسی کو یہ شبہ نہ ہو کہ دو بیٹیوں کا حق جب ایک بیٹی سےزائد ہے تو شائد تین یا چار بیٹیوں کاحق دو بیٹیوں سے زائد ہو گا سو یہ بات ہر گز نہیں بلکہ بیٹیاں جب ایک سے زائد ہوں گی دو ہوں یا دس ان کو دو ثلث ملے گا۔ فائدہ اولاد کے وارث ہونے کی دو صورتیں آیت میں مذکور ہوئیں اول یہ کہ لڑکا اور لڑکی دونوں طرح کی اولاد ہو دوسری یہ کہ صرف دختری اولاد ہو اس کی دو صورتیں ہیں ایک لڑکی ہو یا ایک سے زائد تو اب صرف ایک صورت باقی رہ گئ وہ یہ کہ صرف پسری اولاد ہو سو اس کا حکم یہ ہے کہ تمام میراث اس کو مل جائے گی خواہ ایک بیٹا ہو یا زائد۔ [۲۱]ماں باپ کی میراث: اب ماں باپ کی میراث کی تین صورتیں بیان فرماتے ہیں صورت اول کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر میت کی اولاد ہو بیٹا یا بیٹی تو میت کے ماں باپ کو ترکہ میت میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا۔ [۲۲]دوسری صورت یہ ہے کہ اگر میت کی اولاد کچھ نہ ہو اور صرف ماں باپ ہی وارث ہوں تو اس کی ماں کو ایک ثلث ملے گا یعنی باقی دو ثلث اس کے باپ کو ملیں گے۔ [۲۳]تیسری صورت یہ ہے کہ اگر میت کے ایک سے زیادہ بھائی بہن ہوں خواہ حقیقی ہوں یا صرف باپ یا صرف ماں میں شریک ہوں اور اولاد کچھ نہیں تو اب اس کی ماں کو چھٹا حصہ ملے گا یعنی باقی سب اس کے باپ کو ملے گا بھائی بہن کو کچھ نہ ملے گا اور اگر صرف ایک بھائی یا ایک بہن ہو گی تو ماں کو ایک ثلث اور باپ کو دو ثلث ملیں گے جیسا کہ دوسری صورت مذکورہ بالا میں تھا۔ [۲۴]میت کے قرض اور وصیت کا حکم: یعنی جس قدر وارثوں کے حصے گذر چکے یہ سب میت کی وصیت اور اس کے قرض کو جدا کر لینے کے بعد وارثوں کو دیے جائیں گے اور وارثوں کا مال وہی ہو گا جو مقدار وصیت و قرض کے نکال لینے کے بعد باقی رہے گا اور نصف اور ثلث وغیرہ اسی کا مراد ہے نہ تمام مال کا۔ فائدہ میت کا مال اول اس کے کفن اور دفن کو لگایا جائے جو اس سے بچے وہ اس کے قرض میں دیا جائے پھر جو باقی رہے اس کو میت کی وصیت میں ایک تہائی تک صرف کیا جائے اس کے بعد جو رہے وارثوں پر تقسیم کیا جائے۔ [۲۵]اس آیت میں دو میراث بیان فرمائیں اولاد کی اور ماں باپ کی اب فرماتے ہیں کہ چونکہ یہ بات تم کو معلوم نہیں کہ کس سے تم کو نفع پہنچے گا اور کتنا نفع پہنچے گا اس لئے تم کو اس میں دخل نہ دینا چاہئے جو کچھ کسی کا حصہ حق تعالیٰ نے مقرر فرما دیا ہے اس کی پابندی کرو کہ اس کو تمام چیزوں کی خبر بھی ہے اور بڑا حکمت والا ہے۔

النساء 12


اور تمہارا ہے آدھا مال جو کہ چھوڑ مریں تمہاری عورتیں اگر نہ ہو ان کے اولاد اور اگر ان کےاولاد ہے تو تمہارے واسطے چوتھائی ہے اس میں سے جو چھوڑ گئیں بعد وصیت کے جو کر گئیں یا بعد قرض کے [۲۶] اور عورتوں کے لئے چوتھائی مال ہے اس میں سے جو چھوڑ مرو تم اگر نہ ہو تمہارے اولاد اور اگر تمہارے اولاد ہے تو ان کے لئے آٹھواں حصہ ہے اس میں سے کہ جو کچھ تم نے چھوڑا بعد وصیت کے جو تم کر مرو یا قرض کے [۲۷] اور اگر وہ مرد کہ جس کی میراث ہے باپ بیٹا کچھ نہیں رکھتا یا عورت ہو ایسی ہی اور اس میت کے ایک بھائی ہے یا بہن ہے تودونوں میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے [۲۸] اور اگر زیادہ ہوں اس سے تو سب شریک ہیں ایک تہائی میں بعد وصیت کے جو ہو چکی ہے یا قرض کے جب اوروں کا نقصان نہ کیا ہو [۲۹] یہ حکم ہے اللہ کا اور اللہ ہی سب کچھ جاننے والا تحمل کرنے والا [۳۰]

تفسیر
[۲۶]زوجین کی میراث: اب زوجین کی میراث کو بیان فرمایا جاتا ہے کہ مرد کو اس کی عورت کے مال میں سے آدھا مال ملے گا اگر عوت کے کچھ اولاد نہ ہو اور اگر عورت کے اولاد ہے خواہ ایک ہی بیٹا یا بیٹی ہو اور اسی مرد سے ہو یا دوسرے مرد سے تو مرد کو عورت کے مال میں سے ایک چوتھائی مال ملے گا قرض اور وصیت کے بعد۔ [۲۷]اسی طرح عورت کو اس کے خاوند کے مال میں سے چوتھائی حصہ ملے گا اگر مرد کی اولاد کچھ نہ ہو اور اگر مرد کی اولاد ہے خواہ اسی عورت سے یا دوسری عورت سے تو عورت کو آٹھواں حصہ ملے گا خاوند کے اس مال میں سے جو وصیت اور قرض ادا کرنے کے بعد بچ رہے گا مال کی ہر قسم میں سے نقد ہو یا جنس سلاح ہو یا زیور حویلی ہو یا باغ، باقی رہا عورت کا مہر وہ میراث سے جدا ہے وہ قرض میں داخل ہے۔ یہ کل دو صورتیں ہوئیں۔ جیسا کہ مرد کی میراث میں یہی دو صورتیں تھیں۔ [۲۸]اخیافی بھائی بہن کی میراث: یہاں سے اخیافی بھائی بہن کی میراث کا ذکر ہے جو کہ صرف ماں میں شریک ہوں سو جاننا چاہئے کہ باپ اور بیٹے کے ہوتے ہوئے تو بھائی اور بہن کو کچھ نہیں پہنچتا ہاں اگر باپ اور بیٹا نہ ہو گا تو بھائی اور بہن کو میراث ملے گی۔ بھائی اور بہن تین طرح کے ہیں۔ سگے جو ماں باپ دونوں میں شریک ہوں جن کو عینی کہتے ہیں یا وہ سوتیلے جو صرف باپ میں شریک ہوں جن کو علاتی کہتے ہیں یا وہ سوتیلے جو صرف ماں میں شریک ہوں جن کو اخیافی کہتے ہیں اس آیت میں قسم اخیر کا ذکر ہے چنانچہ متعدد صحابہ کی قرآۃ میں ولہ اخ اواخت کے بعد من الام کا کلمہ صریح موجود ہے اور اس پر سب کا اجماع ہے آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس میت کے خواہ وہ مرد ہو یا عورت ماں باپ بیٹا بیٹی کچھ نہ ہو اور اس کے ایک بھائی یا ایک بہن اخیافی ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا اور مرد اور عورت یعنی اخیافی بھائی اور بہن کا برابر حصہ ہے کمی یا زیادتی نہیں باقی رہے دو قسم کے بھائی بہن یعنی عینی اور علاتی سو ان دونوں قسموں کا حکم مثل اولاد کے ہے بشرطیکہ میت کے باپ بیٹا کچھ نہ ہو۔ مقدم عینی ہے وہ نہ ہو تو پھر علاتی، اسی سورت کے اخیر میں ان دونوں کی میراث کا ذکر آئے گا۔ فائدہ یہ جاننا چاہئے کہ کلالہ کی تفسیر جو یہ کی گئ ہے کہ اس کے باپ بیٹا نہ ہو یہ سب کو مسلم ہے مگر امام ابوحنیفہؒ دادی اور پوتی کی بھی نفی کر تے ہیں اور جو حکم باپ بیٹے کا ہے وہی دادی پوتی کا فرماتے ہیں اور حضرات صحابہ کے وقت سے یہ اختلاف علماء میں چلا آتا ہے۔ [۲۹]تقسیم میراث سے پہلے قرض اور وصیت کا لحاظ: یعنی اگر اخیافی بھائی یا بہن ایک سے زیادہ ہوں تو ان سب کو ایک تہائی مال میراث میں ملے گا اور پہلی صورت میں سدس اور دوسری صورت میں ثلث جو دیا جائے گا تو وصیت اور دین کے بعد جو باقی رہے گا اس کا سدس اور ثلث دیا جائے گا اور وصیت میراث پر مقدم جب ہوگی جب اوروں کو نقصان نہ پہنچایا ہو اور نقصان کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ تہائی مال سے زیادہ کی وصیت ہو دوسری یہ کہ جس وارث کو میراث میں سے حصہ ملے گا اس کے لئے کچھ وصیت بھی کر جائے یہ دونوں صورتیں درست نہیں البتہ اگر سب وارث اس کو قبول کر لیں تو خیر ورنہ یہ وصیتیں مردود ہیں۔ فائدہ وارثوں سے چونکہ اندیشہ تھا کہ ترکہ میت میں سے میت کا دین اور وصیت ادا نہ کریں بلکہ تمام مال آپ ہی رکھ لیں اس لئے میراث کے ساتھ بار بار دین اور وصیت کا حکم تاکیدًا بیان کیا گیا اور وصیت چونکہ تبرع اور احسان ہے اور بسا اوقات کوئی شخص معین اس کا مستحق نہیں ہوتا اور اس وجہ سے اس کے ضائع ہونے کا احتمال قوی تھا تو اس لئے بغرض اہتمام و احتیاط وصیت کو ہر جگہ دین سے پہلے ذکر فرمایا حالانکہ وصیت کا درجہ دین کے بعد ہے جیسا پہلے گذرا نیز وصیت حق مورث ہے جیسے تہجیز و تکفین بخلاف وراثت اور دین کے کہ وہ دوسروں کا حق ہے تو اس حیثیت سے وصیت دین سے مقدم ہو گی گو دوسری وجہ سے دین وصیت پر مقدم ہے اور یہاں جو غیر مضار کی قید لگائی یہی قید مقامات سابقہ میں بھی معتبر ہو گی۔ [۳۰]وارثوں کی تین قسمیں: شروع رکوع سے یہاں تک جو میراثیں بیان فرمائیں وہ پانچ ہیں، بیٹا بیٹی اور ماں باپ اور زوج اور زوجہ اور اخیافی بھائی بہن ان پانچوں کو ذوی الفروض اور حصہ دار کہتے ہیں ان پانچوں میراث کو بیان فرما کر بطور تاکید فرما دیا کہ یہ حکم ہے اللہ کا اس کی تعمیل ضروری ہے اور اللہ تعالیٰ کو سب کچھ معلوم ہے کس نے اطاعت کی اور کس نے نافرمانی کی کس نے میراث و وصیت و دین میں حق اور انصاف کے موافق کیا کس نے بےانصافی کی اور ضرر پہنچایا باقی ظلم و بےانصافی کی سزا میں تاخیر ہونے سے کوئی دھوکا نہ کھائے کیونکہ حق تعالیٰ کا حلم بھی بہت کامل ہے۔ فائدہ جاننا چاہئے کہ ذوی الفروض کے سوا جن کا بیان اس رکوع میں گذرا ایک دوسری قسم کے وارث ہیں جن کو عصبہ کہتے ہیں ان کے لئے کوئی حصہ مثل نصف ثلث وغیرہ کے مقرر نہیں بلکہ ذوی الفروض سے جو فاضل ہوگا وہ ان کو ملے گا مثلًا اگر کسی کے عصبہ ہو اور ذوی الفروض میں سے کوئی نہ ہو تو اس کا مال تمام عصبہ کو ملے گا اور جو دونوں ہوں تو ذوی الفروض کو دے کر جو مال بچے گا عصبہ کو دیا جائے گا اور اگر کچھ نہ بچا تو عصبہ کو کچھ نہ ملے گا اور عصبہ اصل میں تو وہ ہے جو مرد ہو عورت نہ ہو اور اس میں اور میت میں عورت کا واسطہ بھی نہ ہو اور اس کے چار درجے ہیں اول درجہ میں بیٹا اور پوتا ہے دوسرے درجہ میں باپ اور دادا تیسرے درجہ میں بھائی اور بھتیجا چوتھے درجہ میں چچا اور چچا کا بیٹا یا اس کا پوتا اگر کئ شخص ہوں تو جو میت سے قریب ہے وہ مقدم ہو گا جیسے پوتے سے بیٹا یا بھتیجے سے بھائی مقدم ہے پھر سوتیلے سے سگا مقدم ہے اور ان چاروں کے سوا اولاد میں اور بھائیوں میں مرد کے ساتھ عورت بھی عصبہ ہوتی ہے یعنی بیٹے کے ساتھ بیٹی اور بھائی کے ساتھ بہن بھی عصبہ ہو گی یہ عصبہ اصلی نہیں بلکہ غیر اصلی ہیں اور اولاد اور بھائیوں کے سوا عورت عصبہ نہ ہو گی مثلًا چچا کا بیٹا عصبہ ہے مگر اس کے ساتھ ہو کر چچا زاد بہن عصبہ نہیں ہو سکتی۔ فائدہ ان دونوں قسم مذکورہ بالا یعنی ذوی الفروض اور عصبہ کے سوا امام ابوحنیفہؒ کے نزدک وارث کی تیسری قسم ذوی الارحام ہیں یعنی ایسے قرابت والے کہ ان میں اور میت میں عورت کا واسطہ ہو اور ذوی الفروض میں نہ ہو اور عصبہ بھی نہ ہو جیسے نواسا اور نانا اور بھانجا اور ماموں اور خالہ اور پھوپھی اور ان کی اولاد جب کسی میت کے ذوی الفروض اور عصبہ کوئی بھی نہ ہو گا تو اس کی میراث ذوی الارحام کو ملے گی۔ تفصیل کتب فرائض میں مذکور ہے۔

 النساء 176


حکم پوچھتے ہیں تجھ سے سو کہہ دے اللہ حکم بتاتا ہے تم کو کلالہ کا [۲۳۷] اگر کوئی مرد مر گیا اور اس کے بیٹا نہیں اور اس کے ایک بہن ہے تو اس کو پہنچے آدھا اس کا جو چھوڑ مرا [۲۳۸] اور وہ بھائی وارث ہے اس بہن کا اگر نہ ہو اس کے بیٹا [۲۳۹] پھر اگر بہنیں دو ہوں تو انکو پہنچے دو تہائی اس مال کا جو چھوڑ مرا [۲۴۰] اور اگر کئ شخص ہوں اسی رشتہ کے کچھ مرد اور کچھ عورتیں تو ایک مرد کا حصہ ہے برابر دو عورتوں کے [۲۴۱] بیان کرتا ہے اللہ تمہارے واسطے تاکہ تم گمراہ نہ ہو [۲۴۲] اور اللہ ہر چیز سےواقف ہے [۲۴۳]

تفسیر
[۲۳۷]میراث میں کلالہ کا حکم: شروع سورت میں آیت میراث میں کلالہ کا ذکر گذر چکا ہے اس کے بعد جو بعض صحابہؓ نے اس کے متعلق زیادہ تفصیل پوچھنی چاہی تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ کلالہ کے معنی کمزور اور ضعیف۔ یہاں وہ شخص مراد ہے جس کے وارثوں میں باپ اور اولاد میں سے کوئی نہ ہو جیسا کہ پہلے بیان ہوا کیونکہ اصلی وارث والد اور ولد ہی ہیں جس کے یہ نہیں تو اس کے حقیقی بھائی بہن کو بیٹا بیٹی کا حکم ہے اور اگر حقیقی نہ ہوں تو یہی حکم سو تیلوں کا ہے جو کہ باپ میں شریک ہوں ایک بہن ہو تو آدھا اور دو بہن ہوں تو دو تہائی اور اگر بھائی اور بہن دونوں ہیں تو مرد کو دوہرا حصہ اور عورت کو اکہرا ملے گا اور اگر فقط بھائی ہوں بہن کوئی نہ ہو تو بہن کے مال کے وارث ہونگے یعنی ان کا کوئی حصہ معین نہیں کیونکہ وہ عصبہ ہیں جیسا کہ آیت میں آگے یہ سب صورتیں مذکور ہیں اب باقی رہ گئے وہ بھائی بہن جو صرف ماں میں شریک ہوں جنکو اخیافی کہتے ہیں سو ان کا حکم شروع سورت میں فرما دیا گیا ان کا حصہ معین ہے۔ [۲۳۸]میراث کے مزید احکام: یعنی اگر کوئی مرد مر گیا اور اس نے ایک بہن چھوڑی نہ بیٹا چھوڑا نہ باپ تو اس کو میراث میں نصف مال ملے گا۔ [۲۳۹]یعنی اور اگر اس کے برعکس ہو یعنی کوئی عورت لاولد مر گئ اور اس نے بھائی اعیانی یا علاقی چھوڑا تو وہ بہن کے مال کا وارث ہو گا کیونکہ وہ عصبہ ہے اور اگر اس نے لڑکا چھوڑا تو بھائی کو کچھ نہ ملے گا اور لڑکی چھوڑی تو لڑکی سے جو بچے گا وہ اس بھائی کو ملے گا اور بھائی یا بہن اخیافی چھوڑے گی تو اس کے لئے چھٹا حصہ معین ہے جیسا کہ ابتداء سورت میں ارشاد ہوا۔ [۲۴۰]اور اگر دو سے زیادہ بہنیں چھوڑے تو ان کو بھی دو تہائی دیا جائے گا۔ [۲۴۱]کچھ مرد اور کچھ عورتیں یعنی کچھ بھائی اور کچھ بہنیں چھوڑیں تو بھائی کا دوہرا اور بہن کا اکہرا حصہ ہے جیسا کہ اولاد کا حکم ہے۔ [۲۴۲]یہ احکام گمراہی سے بچانے کے لئے ہیں: یعنی اللہ رحیم و کریم محض اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے اور ان کو گمراہی سے بچانے کی غرض سے اپنے احکام حقہ صادقہ بیان فرماتا ہے جیسا یہاں میراث کلالہ کو بیان فرما دیا۔ اس کی اس میں کوئی غرض نہیں وہ سب سے غنی اور بےنیاز ہے تو اب جو اس مہربانی کی قدر نہ کرے بلکہ اس کے حکم سے انحراف کرے اس کی شقاوت کا کیا ٹھکانہ اس سے معلوم ہو گیا کہ بندہ کو جملہ احکام کی تابعداری لازم ہے اگر ایک معمولی اور جزوی امر میں بھی خلاف کرے گا تو گمراہی ہے پھر جو لوگ اس کی ذات پاک اور اس کی صفات کمال میں اس کے حکم کا خلاف کرتے ہیں اور اپنی عقل اور اپنی خواہش کو اس کے مقابلہ میں اپنا مقتدا بناتے ہیں ان کی ضلالت اور خباثت کو اسی سے سمجھ لیجئے کہ کس درجہ کی ہو گی۔ [۲۴۳]مسائل دینی پوچھنے کے فوائد: اس سے پہلے معلوم ہوا تھا کہ حق سبحانہ اپنے بندوں کی ہدایت کو پسند فرماتا ہے اب فرمایا کہ اس کو سب چیزیں معلوم ہیں تو مطلب یہ نکلا کہ مسائل دینیہ میں جو ضرورت پیش آئے اس کو پوچھ لو سو اس ارشاد میں صحابہ نے جو کلالہ کے مسئلہ میں استفسار فرمایا تھا اس کی تحسین کی طرف اور آئندہ ایسے سوالات کرنے کی ترغیب کی طرف اشارہ سمجھ میں آتا ہے اور یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے یعنی تم نہیں جانتے تم تو یہ بھی نہیں بتلا سکتے کہ کلالہ اور اس کے سوا دیگر صورتوں میں جو حصہ مقرر فرمایا گیا اس کی وجہ حقیقت میں کیا ہے پھر آدمی کی عقل اس قابل کب ہو سکتی ہے کہ ا سکے بھروسے حق سبحانہ تعالیٰ کی ذات صفات میں وحی کے خلاف پر جرأت کرے جو اپنے تعلقات اور اپنے اقارب کے فرق اور امتیاز سے عاجز ہو وہ ذات بیچون و بیچکون اور اس کی صفات کو بدون اس کے بتلائے کیا سمجھ سکتا ہے۔ کلالہ کے حکم سے ملنے والے فوائد: اس جگہ کلالہ کے حکم اور اس کے سبب نزول کو بیان فرمانے سے چند باتیں معلوم ہوئیں اول یہ کہ جیسا پہلے وَ اِنۡ تَکۡفُرُوۡا فَاِنَّ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ فرما کر اس کے بعد بطریق تمثیل اہل کتاب کا حال ذکر فرمایا تھا ایسے ہی ارشاد فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ اعۡتَصَمُوۡا بِہٖ الی آخر لآیۃ کے بعد اصحاب رسول اللہ ﷺ کو بطریق تمثیل ذکر فرمایا تاکہ وحی سے انحراف کرنے والوں کی گمراہی اور برائی اور وحی کا اتباع کرنے والوں کی حقانیت اور بھلائی خوب سمجھ میں آ جائے اسی کے ذیل میں دوسری بات یہ بھی ظاہر ہو گئ کہ اہل کتاب نے تو یہ غضب کیا کہ ذات اقدس سبحانہ و تعالیٰ کے لئے شریک اور اولاد جیسے شنیع امر کو اپنا ایمان بنا لیا اور وحی الہٰی کا خم ٹھونک کر خلاف کیا اور اصحاب رسول ﷺ کی یہ حالت ہے کہ اصول ایمان اور عبادات تو درکنار معاملات جزئیہ اور معمولی مسائل متعلقہ میراث نکاح وغیرہ میں بھی وحی کے متجسس اور منتظر رہتے ہیں اور ہر امر میں رسول علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے منہ کو تکتے ہیں اپنی عقل اور خواہش کو حاکم نہیں سمجھتے اگر ایک دفعہ میں تشفی نہ ہوئی تو مکرر حاضر خدمت ہو کر دریافت کرتے ہیں۔ مصرعہ، ببیں تفاوت رہ از کجا ست تا بکجا۔ اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ حضرت سید المرسلین بھی بلا حکم وحی اپنی طرف سے حکم نہ فرماتے تھے اگر کسی امر میں حکم وحی موجود نہ ہوتا تو حکم فرمانے میں نزول وحی کا انتظار فرماتے جب وحی آتی تب حکم فرماتے۔ اس سے صاف معلوم ہو گیا کہ ذات پاک وحدہٗ لاشریک لہ کےسوا کوئی حاکم نہیں چنانچہ آیات متعددہ میں ان الحکم الا للّٰہ وغیرہ صاف مذکور ہے باقی جو ہیں وہ سب واسطہ ہیں ان کے ذریعہ سے اوروں کو حکم الہٰی پہنچایا جاتا ہے البتہ اتنا فرق ہے کہ کوئی واسطہ قریب ہے کوئی بعید جیسا حکم سلطانی پہنچانے لئے وزیر اعظم اور دیگر مقربین شاہی اور حکام اعلیٰ اور ادنیٰ درجہ بدرجہ سب واسطہ ہوتے ہیں پھر اس سے زیادہ گمراہی کیا ہوگی کہ کسی امر میں وحی الہٰی کے مقابلہ میں کوئی گمراہ کسی کی بات سنے اور اس پر عمل کرے شعر آنانکہ زروئے تو بجائے نگر آنند۔ کوتہ نظر آنند چہ کوتہ نظر آنند۔ نیز اشارہ ہے اس طرف کہ ایک دفعہ تمام کتاب کے نازل ہونے میں جیسا کہ اہل کتاب درخواست کرتے ہیں وہ خوبی نہیں جو حسب حاجت اور حسب موقع متفرق نازل ہونے میں ہے کیونکہ ہر کوئی اپنی ضرورت کے موافق اس صورت میں سوال کر سکتا ہے اور بذریعہ وحی متلو اس کو جواب مل سکتا ہے جیسا کہ اس موقع میں اور قرآن مجید کے بہت سے مواقع میں موجود ہے اور یہ صورت مفید تر ہونے کے علاوہ بوجہ شرافت ذکر خداوندی و عزت خطاب حق عزوجل ایسے فخر عظیم پر مشتمل ہے جو کسی امت کو نصیب نہیں ہوا۔ واللہ ذوالفضل العظیم اس صحابی کی بھلائی یا اس کے سوال کے جواب میں کوئی آیت نازل ہوئی وہ اس کے مناقب میں شمار ہوتی ہے اور اختلاف کے موقع میں جس کی رائے یا جس کے قول کے موافق وحی متلو اتری قیامت تک ان کی خوبی اور نام نیک رہے گا۔ سو کلالہ کے متعلق سوال و جواب کا ذکر فرما کر اس طرح کے بالعموم سوالات اور جوابات کی طرف اشارہ فرما دیا اور شاید اسی اشارہ کی غرض سے سوال کو مطلق رکھا مسئول عنہ کو سوال کے ساتھ ذکر نہ فرمایا بلکہ جواب میں اس کی تصریح فرمائی جس کی دوسری نظیر قرآن شریف میں نہیں اور نیز جواب کو بالتصریح حق تعالیٰ کی طرف منسوب فرمایا واللہ اعلم واللہ الہادی الحاصل جملہ احکام کے لئے وحی الہٰی منشاء اور اصل ہے اور ہدایت اسی کی متابعت پر موقوف ہے اور کفر و ضلالت اسی کی مخالفت میں منحصر ہے اور چونکہ آپ کے زمانہ میں یہود و نصاریٰ اور جملہ مشرکین اور جملہ اہل ضلالت کی گمراہی کی جڑ یہی مخالفت تھی اس لئے حق تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں بہت جگہ وحی کی متابعۃ کی خوبی اور اس کی مخالفت کی خرابی پر متنبہ فرمایا بالخصوص اس موقع میں تو دو رکوع اس مہتم بالشان مضمون کے لئے نازل فرمائے اور تفصیل اور تمثیل کے ساتھ بیان فرمایا شاید اسی وجہ سے امام بخاریؒ نے اپنی کتاب میں باب "کیف کان بدءالوحی الیٰ رسول اللہ ﷺ" منعقد فرما کر آیت اِنَّاۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ کَمَاۤ اَوۡ حَیۡنَاۤ اِلٰی نُوۡحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ کو ترجمۃ الباب میں داخل کیا اور ان دونوں رکوع کی طرف اشارہ کر گئے گویا مطلب یہ ہے کہ قولہ تعالیٰ اِنَّاۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ کَمَاۤ اَوۡ حَیۡنَاۤ اِلٰی نُوۡحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ الی اٰ خر مضمون الوحی واللہ اعلم۔
 

حکم 1
تقسیم ترکہ کے بعد خاص اپنا حصہ میں سے غیر مستحق ورثاء کو دینے کی ترغیب

مثال 1
100 روپے کے ترکہ میں سے زید کے حصہ میں 5 روپے آئے ۔ اس میں سے وہ جس کو چاہے دے (اس اٰیت میں خیرات کرنے کی ترغیب ہے)

حکم :2

مورث (میت) کی وفات کے وقت اگر اس کا بیٹا اور بیٹی ہر دو جنس زندہ ہوں تو تب ان کے مشترکہ حصہ کی رقم ان میں یوں تقسیم ہوگی کہ بیٹی کو اگر 1 روپیہ ملے تو بیٹا کو 2 روپیہ ملیں گے، یا بیٹا :بیٹی= 1 : 2

مثال 2
حاتم 1980 میں فوت ہوئا۔ اس نے100 روپیہ کا ترکہ چھوڑا۔ تب اس کے 4 بیٹا اور 2 بیٹی زندہ تھے۔ اس کا اور کوئی وارث زندہ نہ تھا۔ ترکہ یوں تقسیم ہوگا
ترکہ100 = 4 بیٹا8 = بیٹی 2 بیٹی2 = بیٹی کل10 = 2 + 8=بیٹی پس 1بیٹی 10 = 100/10 =روپیہ 1 بیٹا 20 = 2 x 10 =روپیہ

حکم :3
مورث نے اگر بیٹا تو کوئی نہ چھوڑا۔ لیکن اس کی ایک سے زائد بیٹی زندہ تھیں۔ تو ان کو کل ترکہ کا 2/3 ملے گا

مثال 3
حاتم نے 600 کنال زمین ترکہ میں چھوڑی۔ تب اس کا بیٹا تو کوئی زندہ نہ تھا، البتہ بعض دیگر ورثاء کے علاوہ 4 بیٹی چھوڑیں۔ تب
4 بیٹی400= 600x2/3= کنال یا 1 بیٹی 100= 400/4 =کنال

حکم :4
مورث نے اگر بیٹا کوئی نہ چھوڑا۔ لیکن دیگر ورثاء کے علاوہ 1 بیٹی چھوڑی۔ تو اس کو کل ترکہ کا 1/2 ملے گا

مثال 4
مجنوں نے 1 بیٹی اور بعض دیگر وارث چھوڑے۔ جبکہ اس کا بیٹا کوئی نہ تھا۔ تب اس کا ترکہ اگر100 روپیہ ہو تو اس کی
1 بیٹی50 = 100x ½ = روپیہ

حکم :5
اگرمورث کی اولاد میں سے کوئی زندہ ہو تو تب اس کی
ماں 1/6 =
باپ1/6 =

مثال 5
مورث نے ماں، باپ ، 2 بیٹی پیچھے چھوڑے ۔ اور 1200 گرام سونا،تب ماں 200=1200x1/6= گرام باپ 200=1200x1/6= گرام

حکم :6 =
اگر مورث کے اولاد،اخوہ اور خاوند(بیوی) میں سے کوئی بھی زندہ نہ ہو تو تب
ماں1/3

مثال6
جب کلو فوت ہوئا تو اس وقت اس کے بیٹا،بیٹی،اخوہ ،بیوی میں سے کوئی بھی زندہ نہ تھا۔البتہ اس کی ماں زندہ تھی۔ اس نے ترکہ میں صرف ایک مکان چھوڑا، جس کی مالیت 1500 روپیہ تھی ۔ تب ماں 500=1500x1/3= روپیہ

حکم: 7
اگر مورث کا اخوہ ( حقیقی ،علاتی، اخیافی بھائی بہن) میں سے کم از کم 2 افراد زندہ ہوں تو تب
ماں 1/6 =

مثال 7
مورث مورث نے ماں،1حقیقی بہن،1علاتی بھائی چھوڑے اور 6000روپیہ کا ترکہ، تب 1حقیقی بہن1+علاتی بھائی= اخوہ لہذا ماں= 6000x 1/6= 1000= روپیہ

اجتہاد عہد فاروقی
اگر مورث کی نہ تواولاد زندہ ہو اور نہ ہی اخوہ ۔ لیکن اس کا باپ اور خاوند(بیوی) دونوں زندہ ہوں تو تب ماں= خاوند(بیوی) سے باقی کا 1/3 اس سے ذیل کے دو احکام مرتب ہوتے ہیں

حکم :8
جب کہ بیوی زندہ ہو بیوی1/4= باقی 3/4 = ¼ - 1 = ماں1/4=3/12=1/3x3/4=

مثال8
عقیل نے نہ اولاد چھوڑی اور نہ ہی اخوہ۔ البتہ ماں، بیوی، 1 اخیافی چھوڑے اور 100 روپیہ کا ترکہ۔ تب 1 اخیافی سے اخوہ نہیں بنتا، لہذا ماں 25= 100x ¼ = روپیہ

حکم :9
جب کہ خاوند زندہ ہو خاوند1/2= باقی 1/2 = 1/2 - 1 = ماں 1/6 = 1/3 x ½ =

مثمثال ? 9

مثال ? 9

النساء 12
مومورث کی اولاد زندہ نہ ہو تو خاوند1/2=
مثال 10

ہندہ نے 400 گرام طلائی زیورات چھوڑے۔ اس کے وارث اس کا خاوند، ماں، ایک حقیقی بہن تھے۔تب خاوند200 = 400 x 1/2 = گرام

حکم :11
مورث کی اولاد زندہ ہو تو خاوند1/4 =

مثال 11
ب بانو نے 800 گرام سونا چھوڑا۔ تب اس کا خاوند، ماں، ایک بیٹا تھے۔تب خاوند100 = 400 x 1/4 = گرام

حکم :12
مورث کی اولاد زندہ نہ ہو تو (جملہ) بیوی1/4 =

مثال 12
ماکھا نے800 مکعب میٹر عمارتی لکڑی چھوڑی۔ تب اس کی 2 بیوی ، ماں، باپ زندہ تھے۔ پس 2 بیوی 200 = 800 x 1/4 = مکعب میٹر یا 1 بیوی 100 = 200 x ½ = مکعب میٹر

حکم :13
مورث کی اولاد زندہ ہو تو (جملہ) بیوی1/8 =

مثال 13
مالک لوہار نے600 ٹن لوہا چھوڑا ۔ تب اس کی 3 بیوی ، ماں، باپ، بیٹی زندہ تھے۔ پس 3 بیوی 75 = 600 x 1/8 = ٹن یا 1 بیوی 25 = 75 x 1/3 = ٹن

حکم :14
اگر مورث نے باپ، بیٹا، بیٹی کوئی نہ چھوڑے تب اس کے اخیافی بہن بھائی (لازما) حصہ پائیں گے

حکم :15
اگر مورث کلالہ ہو اور اس نے فقط 1 اخیافی چھوڑا تو اس کو ترکہ کا 1/6 ملے گا

حکم :16
اگر مورث کلالہ ہو اور اس نے 2 یا زائد اخیافی چھوڑے تو ان کو ترکہ کا 1/3 ملے گا

مثال 16
باصر نے 4 اخیافی وارث چھوڑے۔ تب اس کا بیٹا، بیٹی، باپ کوئی نہ تھا۔ اس کا ترکہ 90 کنال زمین تھی۔ تب 4 اخیافی30 = 90 x 1/3 = کنال 1 اخیافی 7.5 = 30/4 = کنال


 النساء 177

حکم :17
اگر مورث کا بیٹا زندہ ہو نہ باپ، تو اس کے حقیقی بہن بھائی کو حصہ ضرور ملے گا

حکم :18
مورث کلالہ ہو، جس کا حقیقی بھائ بھی نہ ہو لیکن 1 حقیقی بہن زندہ ہوں تو 1 حقیقی بہن1/2 =

حکم :19
اگر مورث کلالہ ہو، اس کی 2 یا زائد حقیقی بہن ہوں،لیکن اس کا حقیقی بھائی کوئی نہ ہو، تو ان کو 2/3 ملے گا

حکم :20
اگر مورث کلالہ ہو اور اس کے وارث حقیقی بھائی بہن دونوں ہوں تو ان میں باہم تقسیم یوں ہوگی کہ 1 حقیقی بھائی= 2 حقیقی بہن

مثال 20
مورث کا باپ، بیٹا زندہ نہ تھا۔ البتہ اس کے 2 حقیقی بھائی، 3 حقیقی بہن زندہ تھیں، جن کے حصہ میں 7000 روپیہ آیا، تب 2 حقیقی بھائی= 4 حقیقی بہن 3 حقیقی بہن= 2 حقیقی بہن کل= 7 = 3 + 4 حقیقی بہن لہذا حصہ 1 حقیقی بہن100= 7000x1/7= 1 حقیقی بھائی200 = 100 x 2 = روپیہ

حکم :21
اگر مورث کلالہ ہو۔ اس کا حقیقی بھائی تو کوئی نہ ہو لیکن اس کی بیٹی زندہ ہو تو تب حقیقی بہن = باقی از حکم 1 تا 16

حکم :22
اگاگر حکم 1 تا 13 کے تحت دے کر کچھ بچ جائے تو وہ باپ کو ملے گا، یعنی باپ= باقی از حکم 1 تا 13

مثال 22
مورث نے باپ، 1 بیٹی چھوڑے، تو تب 1 بیٹی1/2 = (حکم 4) باپ1/6 = (حکم 5) کل 2/3 = 1/6+ ½ = باقی از اکائی1/3 = 2/3 – 1 = یہ بھی باپ کو مل گیا پس باپ ½ = 3/6 = 1/3+ 1/6 =