آ پ نے پوچھا

1.0

ترکہ
وہ تمام جایداد منقولہ یا غیر منقولہ جو مورث(میت) کو ورثہ میں ملی ہو یا اس نے خود کما یی ہو، بشمول جملہ قابل وصول قرضہ جات مورث کا ترکہ کہلاتی ہے۔ اس میں سے مورث کے متوسط کفن و دفن، واجب الادا قرضہ جات اور ایک تہایی (1/3) کی حد تک جایز وصیت کی رقم نکال کر باقی جو بچ جایے وہ قابل تقسیم ترکہ ہوا، جو کہ لازما مورث کے ورثاء میں تقسیم ہوگا

2.0

وارث
ہر وہ خونی رشتہ دار اور خاوند (بیوی) جو مورث کی وفات کے وقت زندہ ہوں نیز حمل کا بچہ سب وارث کہلاتے ہیں

3.0

قابل تقسیم ترکہ
مورث کے ترکہ میں سے سب سے پہلے

(1) اس کے کفن و دفن کا متوسط خرچ ادا کیا جایے

(2) جو باقی بچ جایے ا س میں سے قسم اول کا قرض ادا کیا جایے

(3) جو باقی بچ جایے اس میں سے قسم دوم کا قرض ادا کیا جایے

(4) اس سے جو رقم بچ جایے اس کے 1/3 کی حد تک قسم سوم کا قرض اور جا یزوصیت کی رقم ادا کی جایے۔ (قرض کی تین اقسام کے لیے شمار 28.0 ملاحظہ ہو)۔ تب جو بچ جایے وہ قابل تقسیم ترکہ ہے

4.0

مرگ سے پہلے جایداد کا انتقال
زندگی میں ہر شخص کو اختیار ہے کہ وہ اپنی جایداد بحالت صحت و تندرستی یعنی مرض وفات میں مبتلا ہونے سے پہلے پہلے بہوش و حواس جس کو چاہے بخش دے۔ شرط اس کے لیے یہ ہے کہ زندگی میں ہی باقاعدہ تقسیم کرکے شریعت کے مطابق قبضہ کروا دے، یعنی اگر نقدی ہے تو بینک ڈرافٹ وغیرہ دینا کافی نہیں، بلکہ نقد دست بدستی ادا کرے۔ اور اگر مکان ہے تو اپنا اور دیگر غیٰرمتعلقہ افراد کا سامان باہر نکال کر چابی حوالہ کر دے۔ رجسٹری کرنا شرعی ضرورت نہیں، فقط قانونی ضرورت ہے۔ صرف زبانی یا تحریری طور سے انتقال جائیداد صحیح نہ ہوگا اور مرض وفات میں وارث (کہ جس کو مرنے کے بعد کچھ نہ کچھ ملیگا) کو دینا معتبر نہیں۔ نیز اس طرح کا انتقال جاییداد تب ہی شرعا جایز ہوگا جب کویی شرعی وجہ موجود ہو۔ مثلا

4.1 زید کے تین بیٹوں میں سے دو نہایت بدکار اور فاسق ہیں اور ایک نیک و دیانتدار ہے تو اس کو زندگی میں کچھ دے کر مالک بنا دینا مکروہ نہ ہوگا، یا یہ کہ ایک بہت مفلس و عیال دار ہے اور دوسرے بیٹے خود مالدار یا خوش حال ہیں تو اگر غریب و مفلس کے لیے اپنی زندگی میں کچھ دے کر مالک بنا دے تو وہ بھی مکروہ نہ ہوگا

4.2 زید کو خوف ہے کہ اس کے وارث بے انصاف اور زبردست ہیں جو کہ اس کے مرنے کے بعد اس کی بیوہ کو کچھ نہ دیں گے۔ تو ایسی صورت میں کچھ جایداد اس کے نام انتقال کرکے قبضہ کروا کر مالک بنا دے تو یہ بھی مکروہ نہ ہوگا

4.3 زید کا ایک بیٹا زید کی خدمت کرتا ہے اور باقی سب بے ادب اور نالایق ہیں۔ تو اگر زندگی میں اس کو کچھ حصہ جایداد وغیرہ دے کر مالک بنا دے تو وہ مکروہ نہ ہوگا

4.4 زید کی ا یک یا زاید بیٹیاں ہیں، نیز اس کے بھایی یا چچا کی نرینہ اولاد۔ لیکن بیٹا کویی ن نہیں، أس صورت میں وہ اپنی ساری جائیداد اپنی بیٹیوں کے نام اپنی زندگی میں منتقل کر دیتا ہے، تو یہ شرعا جایز ہوگا۔ ہاں خاوند(بیوی)، بیٹا، بیٹی، ماں باپ کو بلا کسی شرعی وجہ کے اس طور محروم کرنا جایز نہ ہوگا

شرعی قبضہ کے لیے شمار 31.0 ملاحظہ ہو

5.0

وارث کے حق میں وصیت

5.1 فرض کیا زید کومورث کی وراثت سے حصہ ملتا ہے تو اس صورت میں اس کے حق میں کویی وصیت قابل عمل نہ ہوگی ۔ ہاں اگر زید اس وصیت کے بعد اس مورث سے پہلے ہی مر جایے تو تب چونکہ مردہ کو حق وراثت نہیں پہنچتا، لہذا اس کے حق میں کی ہویی وصیت اس کے(زید) کے وارث لے لیں گے

5.2 جس طرح مستحق وارث کے حق میں وصیت ناقابل عمل ہے اسی طرح ایسے وارث کو عاق کرنا بھی۔یعنی یہ کہنا کہ میرے مرنے کا بعد میرے فلاں وارث کو حصہ وراثت نہ دینا ناقابل عمل ہوگ

6.0

غیر شرعی مال وراثت
جو چیز مورث نے عاریۃ (ادھار مانگی ہویی) لی تھی ۔ یا کسی نےاس کے پاس امانت رکھی ہویی تھی، چونکہ وہ مال وراثت میں شامل نہیں ہے لہذا اس کی تقسیم بھی نہ ہوگی۔ اسی طرح اگر مورث نے کسی کا مال غصب یا چوری یا خیانت کرکے رکھ لیا ہو تو اس کی تقسیم بھی نہ ہوگی

7.0

پینشن کی رقم کی تقسیم
مورث کے وظیفہ یا پینشن کے بقایا جات جو اس کی موت کے بعد وصول ہوں ان کی بھی دوسرے ترکہ کی طرح تقسیم ہوگی۔ لیکن اگر موت کے بعد پینشن جاری رہی جس کو فیملی پینشن کہتے ہیں تو سرکاری کاغذات میں جس کے نام پینشن درج ہوگی صرف وہی وصول کرنے کا حقدار ہوگا

8.0

مسلسل غیر منقسم ترکہ( مسٗلہ مناسخہ)
فرض کریں کہ 1380 ہجری میں زید فوت ہو گیا۔ اس کا ترکہ ابھی تقسیم نہیں ہوا تھا کہ 1410 ہجری میں اس کا ایک وارث عاقل فوت ہو گیا۔ اب اگر زید کا ترکہ تقسیم کرنا چھاہیں تو اس کی صورت یہ ہوگی کہ پہلے 1380 ہجری میں زید کی وفات کے وقت اس کے جو جو وارث زندہ تھے ان کے جدا جدا حصص معلوم کر لیں۔اس سے زید کی جایداد میں سے عاقل کے حصہ کا تعین ہو گیا۔پھر عاقل کے حصہ کو اور اس کے اپنے کمایے ہویے مال کو عاقل کے وارثوں میں تقسیم کر دیں

9.0

مشترکہ جائیداد
فرض کریں کہ زمین تو زید کی ملکیت تھی لیکن اس پر بکر نے مکان تعمیر کر لیا تھا۔ یہاں درج ذیل تین صورتیں ممکن ہیں

(1) اگر بکر نے زید کی اجازت سے اپنے لیے مکان تعمیر کیا تھا تو اس صورت میں مکان کا مالک بکر ہوگا اور زید کی زمین عاریت پر سمجھی جایگی۔ پھر اگر زید اس مکان کو خریدنا چاہے تو بکر کو عام نرخ کے مطابق مکان کی قیمت ملے گی

(2) اگر مکان زید کے لیے زید کی اجازت سے بنایا تو مکان زید کا ہوگا اور جو کچھ اس پر خرچہ ہوا، وہ زید پر بکر کا قرضہ ہوگا جس کی ادایگی زید کے ذمہ ضروری ہوگی

(3) اگر بکر نے اپنے لییے زید کی رضامندی کے بغیر تعمیر کیا تھا تو بکر کے ذمہ زید کی زمین خالی کرکے دینا ہوگا اور اگر بکر اپنے مکان کی قیمت لینا چاہے تو اس صورت میں بکر کو اس کے مکان کے ملبہ کے بقدر رقم ملے گی(شامیہ)

10.0

فرد واحد کے نام انتقال جایداد
فرض کریں زید نے(اپنے کسی بچے) بکر کے حوالہ اپنا رہایشی مکان اپنی صحت والی زندگی میں اپنا ذاتی سامان اور (بکر کو چھوڑ کر) گھر کے دیگر افراد (بیوی، بچوں) کو نکال کر اور خود بھی نکل کر خالی حالت میں کر دیا تو شرعا مکان بکر کا ہو جایے گا۔ اس تخلیہ اور عملی قبضہ کے بعد بذریعہ رجسٹری منتقل کر دے۔ اب اگر زید کی زندگی میں زید کا پورا کنبہ اس مکان میں رہایش پذیر رہا ہے تو زید کی وفات کے وقت فقط بکر ہی اس مکان کا تنہا وارث ہوگا۔ لیکن اس سے بعد میں خاندان میں جھگڑا پیدا ہو سکتا ہے ، لہذا اس صورت میں بہتر یہ ہے کہ زید رجسٹری کے کاغذات میں یہ واضح طور پر تحریر کر دے کہ گھر کے دیگر افراد بکر کی رضامندی ہی سے جب تک وہ اجازت دے اس مکان میں رہ سکتے ہیں

11.0

مخصوص مال وراثت
فرض کریں زید نے اپنے بیٹا کی شادی کے لیے کچھ جائیداد جمع کر رکھی تھی یا بیٹی کے لیے جہیز مخصوص کر رکھا تھا یا مسجد کی تعمیر کے لیے اینٹ، لکڑی وغیرہ خرید کر اپنی ملکیت میں رکھی تھی۔ تو اس کی وفات پر ان سب کی تقسیم ہوگی۔ لیکن زید نے اگر اپنی زندگی میں بیٹی یا بیٹا کی شادی وغیرہ پر خرچ کیا ہو تو وہ ترکہ شمار نہ ہوگا

12.0

منہ بولا بیٹا بیٹی
منہ بولا بیٹا بیٹی کسی مرد یا عورت نے کسی لڑکا یا لڑکی کو منہ بولا بیٹا یا بیٹی بنا لیا تو وہ لڑکا یا لڑکی اس مرد (عورت) کے ترکہ سے حق وراثت نہ پایے گا

13.0

نابالغ وارثوں کا حق وراثت
اگر مورث کے وارثوں میں بعض نابالغ بھی ہوں تو ان کی اجازت کا کویی اعتبار نہیں۔ صرف تقسیم جایداد کے بعد ہی بالغ وارثین اپنے اپنے حصہ سے خیرات وغیرہ کر سکتے ہیں۔ اس سے پہلے نہیں

14.0

تقسیم وراثت میں معاہدہ (مسٗلہ تخارج)

 14.1
کوئی وارث دوسرے وارثوں کی رضامندی سے اس شرط پر اپنا حق وراثت چھوڑ دے کہ اس کو ئی خاص چیز وراثت میں سے دے دی جاءے تو یہ شرعا جاءز ہے۔ مثلا ایک مکان یا کار لے لی ۔ اور باقی ترکہ میں سے اپنا حصہ چھوڑ دیا ۔ یا خاوند نے اپنی مرنے والی بیوی کا حق مہر نہ دیا تھا تو اس نے اس کے بدلے اپنا حصہ وراثت جو بیوی کے ترکہ سے اس کو ملنا تھا، چھوڑ دیا

14.2 حق وراثت سے دست براری اگر کوئی ایسا شخص کہ جس کو مورث کی جاجائیداد میں سے شرعی طور پر حصہ لینے کا حق پہنچتا ہو ۔ (مثلا بہن ، بھائی، ماں، نانی وغیرہ) یہ کہ کر حصہ لینے سے انکار کر کرے کہ میں خوشی سے اپنا حصہ چھوڑتا ہوں، باقی وارث ساری جائیداد آپس میں بانٹ لیں یا یہ کہ میرا حصہ اپنے طور پر کہیں بطور چندہ وغیرہ دے دیں۔ تو اس طرح کی بخشش کرنا شرعا بالکل ناجاءز ہے۔ بلکہ صحیٰح قاعدہ یہ ہے کہ وہ وارث اپنے حصہ پر باقاؑعدہ قبضہ حاصل کر لے ۔ مثلا اگر زمین وغیرہ ہے تو قبضہ اور تقسیم کے بعد بذریعہ رجسٹری انتقال کروا لے۔ پھر اس کے بعد جس کو چاہے اسے واپس منتقل کر دے یا بطور چندہ وغیرہ دے دے

15.0

قاتل کا حق وراثت
ایک بالغ مرد جو ہوش و ہواس قایم ہوتے ہویے کسی کو بے قصور مار ڈالے تو وہ مرنے والے کی وراثت کا حقدار نہ ہوگا۔

16.0

مرگ انبوہ
فرض کریں کہ دو اشخاص زید اور بکر جو کہ ایک دوسرے کے وارث بنتے ہیں، کسی وبایی مرض یا حادثہ کی وجہ سے اکٹھے مر جاتےہیں اور کسی طرح بھی تقدیم و تاخیر معلوم نہیں ہو سکتی تو اس صورت میں زید کے ترکہ کی تقسیم کرتے وقت بکر کو مردہ شمار کیا جایے گا اور اسی طرح بکر کے ترکہ کی تقسیم کرتے وقت زید کو مردہ شمار کیا جایے گا

17.0

تقسیم وراثت میں حمل کا لحاظ
اگر مورث کے وارثوںمیں کویی بچہ حمل میں ہو جو مورث کا وارث ہو سکتا ہے تو بہتر یہ ہے کہ اس کی پیدایش تک وراثت کی تقسیم ملتوی کر دی جایے۔ میت کی بیوی کے لیے مدت حمل دو سال ہے اور دوسری وارث عورتوں کے لیے چھ ماہ ہے

18.0

وضع حمل سے قبل تقسیم ترکہ میں احتیاط
اگر ورثاء میں کویی عورت حاملہ ہو اور وضع حمل سے قبل (عارضی طور پر) تقسیم ترکہ کرنا چاہیں تو اس صورت میں بعض فقہاء کے نزدیک یہ فرض کر لینا چاہیے کہ وو عورت ایک کے بجایے دو بچوں کو جنم دے سکتی ہے۔ اس سے تقسیم ترکہ کی یہ چھ مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں

-1 ایک بچہ -2 ایک بچی -3 ایک بچہ، ایک بچی -4 دو بچے -5 دو بچیاں -6 مردہ بچہ(بچی)

 لہذا ہر صورت کے مطابق حصص معلوم کریں۔اور زندہ وارثوں میں سے ہر ایک کو ان چھ صورتوں میں سے سب سے قلیل حصہ دیں۔ اور اس طرح جو ترکہ بچ جایے وہ وضع حمل تک محفوظ رکھیں۔ آخری تقسیم وہ صحیح ہوگی جو کہ وضع حمل کے بعد ہوگی۔ اس طریقہ تقسیم میں حکمت یہ ہے کہ بعد میں زندہ وارثوں سے کچھ واپس مانگنے کی نوبت نہ آیے گی

19.0

ہیجڑے کا حق میراث
ہیجڑے وارث کے حصہ جاییداد کا اصول یہ ہے کہ اگر اس میں مردانہ صفات زیادہ پایی جایں تو اس کو مرد شمار کیا جایے اور اگر زنانہ صفات زیادہ پایی جاییں تو اسے عورت تصور کیا جایے ۔ لیکن اگر دونوںصفات برابر برابر ہوں تو جس صورت میٰں اس کو خسارہ ہو، اس کو وہی شمار کرکے جایداد تقسیم کی جایے

20.0

حق شفعہ
فرض کیا کہ زید کے ہمسایہ کا مکان فروخت ہو۔ ا اور زید نے حق شفعہ کا دعوی کر کے مکان لیناچاہا۔ اس دوران وہ مر گیا۔ تو اب زید کے وارثوں کو مثلا زید کے بیٹا کو جو زید کی زندگی میں اپنے باپ کی وراثت کا مالک نہیں تھا، حق شفعہ نہیں رہے گا۔ کیونکہ زید کی موت سے حق شفعہ باطل ہو گیا۔ ہاں اگر وہ مکان دوبارہ فروخت ہو تو وہ اشخاص جو زید کے مکان کے وارث ہوں اس وقت از سر نو حق شفعہ کا دعوی کر سکیں گے

21.0

لا پتہ شخص کی وراثت
جو شخص مفقود الخبر (لا پتہ) ہو جایے کہ اس کی زندگی اور موت کا کچھ حال معلوم نہ ہو تو اس کے لیے دو حکم ہیں

21.1 اگر لا پتہ شخص مورث ہو تو اس کا تمام مال و جایداد اس کی تخمینا تاریخ پیدایش سے لے کر 90 سال کی عمر تک رکھا جایے، اگر اس عرصہ کے اندر اندر خبر نہ ملے تو وہ مردہ تصور کیا جایے اور جو وارث اس وقت موجود ہوں ا ن کو حصہ حسب قاعدہ شریعت دیا جایے

21.2 ا گر لا پتہ شخص کا کویی رشتہ دار مر جایے۔ کہ جس کا حصہ اس مفقود الخبر کو بھی پہنچتا ہو تو وہ حصہ اس کے لیے 90 سال کی عمر تک رکھا جایے ۔ اس کے بعد اس کو مردہ تصور کیا جایے اور یہ حصہ جو امانت ہے اس شخص کے وارثوں کو دیا جایے کہ جس کے مال میں سے یہ رکھا گیا تھا اور اس امانت شدہ حصہ میں وہ سب وارث حقدار ہوں گے جو اصل مالک کے مرنے اور امانت رکھے جانے کے وقت زندہ تھے۔ یا قاضی حالات اور زمانہ کی رعایت کرکے اپنی صوابدید سے ایک قابل اعتبار مدت گزرنے کے بعد مفقود(خواہ وہ مورث ہو یا وارث )کے مرنے کا فیصلہ کر دے تو اس کے بعد اس کا ترکہ تقسہیم کیا جا سکتا ہے (شامیہ)

22.0

رخصتی سے قبل حق وراثت
اگر کسی لڑکی کا خاوند مر گیا اور اس وقت تک اس کی رخصتی نہیں ہویی تھی تو تب بھی وہ مورث کی وراثت کی حقدار ہوگی

23.0

ایک سے زیادہ حصص وراثت حاصل کرنا
فرض کریں زید ، ہندہ کا خاوند بھی ہے اور اس کے چچا کا بیٹا بھی۔ تب زید کو ہندہ کی وفات کے وقت اس کے خاوند اور چچا زاد بھایی ہر دو حیثیت سے حصہ مل سکتا ہے بشرطیکہ کویی اور قریبی وارث نہ ہو

24.0

یتیم بچوں کے حصہ میں خرد برد
اگر وارثوں میں یتیم بچے رہ جایں تو مرگ پر غیر شرعی رسموں میں جایداد کا ضایع کرنا بڑا ظلم ہے

25.0

غیر ضروری کفن
بعض جگہ رواج ہے کہ ایک بڑی چادر جنازہ کے اوپر ڈھانپ دی جاتی ہے۔ یہ کفن میں داخل نہیں۔ اس لیے اگر میت کے پاس قرض کی ادایگی سے زیادہ مال نہ ہو یا وارث نابالغ ہوں تو یہ چاد ڈال کر قرض خواہوں اور یتیم بچوں کا نقصان کرنا ہرگز جایز نہیں

26.0

وصیت مرض الموت سے پہلے
جو شخص معاملہ دار ہو اور لوگوں کا قرض یا امانت وغیرہ اس کے پاس موجود ہو تو اس کو چاہیے کہ وصیت نامہ لکھ رکھے تاکہ اس کے مرنے کے بعد حق والوں کا حق تلف نہ ہو

27.0

غیر شرعی ورثاء
اصولی طور پرصرف خونی رشتہ دار ہی کسی کے وارث ہو سکتے ہیں۔ جن میں سے 300 ورثاء کی فہرست دفعہ 9 ( کنبہ کے افراد) کے تحت دی گیی ہے۔ بعض رشتہ دار مثلا ساس، سسر، بہنویی، چچی وغیرہ کبھی بھی اس مخصوص رشتہ کی بنا پرحصہ میراث نہیں پا سکتے

28.0

قرض اور اس کی تین قسمیں

قرض کی حسب ذیل تین قسمیں ہیں۔ سب سے پہلے قرض قسم اول کا ادا کرنا ضروری ہے۔ اگر اس سے کچھ باقی بچ جایے تو اس بقایا سے قسم دوم کا قرض ادا کیا جایے۔ اگر قرض ازقسم دوم سے بھی کچھ بچ جایے تو اس بقایا سے قرض قسم سوم کی ادایگی صرف اس صورت میں واجب ہے جب مورث وصیت کر گیا ہو، ورنہ وارثوں کی مرضی پر منحصر ہے

28.1   قرض قسم اول
وہ قرض جو بحالت صحت (یعنی مرض الموت سے پہلے) مورث کے اقرار سے ثابت ہو۔ یا عام لوگوں کے مشاہدہ اور معاینہ سے ثابت ہوا ہو۔مثلا سب کے سامنے زید نے 1000 روپیہ مہر مقرر کرکے ہندہ سے نکاح کیا ہو تو ہندہ کا 1000 روپیہ زید کے ذمہ با المشاہد ہ ثابت ہو گیا۔ یا سب لوگوں کے سامنے زید نے کسی سے غلہ خریدا تھا یا کپڑا خریدا تھا، یا سب لوگوں کو عام طورسے معلوم ہے کہ زید کے مرض میں فلاں ڈاکٹر سے دوا قرض پر لی جاتی تھی

 28.2  قرض قسم دوم
وہ قرض جس کا مرض الموت میں مورث نے اقرار کر لیا ہو۔ لیکن گواہوں سے یا عام مشاہدہ سے یہ ثابت نہ ہو
28.3   قرض قسم سوم
خدا تعالی کا قرض یعنی زکات، کفارہ ، واجب شدہ قضاء نماز اور روزہ کا فدیہ وغیرہ

29.0

قرض خواہوں کو جزوی ادایگی

یہاں دو مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں

29.1 مورث صرف واجب الادا قرضہ جات چھوڑ کر مرے۔ اس صورت میں ان قرضہ جات کی ادایگی ورثاء پر لازم نہ ہوگی

29.2 اگر مورث نے کچھ ترکہ چھوڑا ہو لیکن یہ ترکہ جملہ قرضہ جات کی ادایگی کے لیے کافی نہ ہو۔ تو اس صورت میں تمام ترکہ ، قرض خواہوں کی رقم کی نسبت سے ان میں تقسیم کر دیا جایگا

30.0

مورث کی فوت شدہ نماز و روزہ کا فدیہ

30.1 جس شخص کے ذمہ نماز یا روزہ یا زکوۃ یا حج واجب ہو اور اس پر موت کی علامتیں ظاہر ہونے لگیں تو واجب ہے کہ وہ اپنے وارثوں کو وصیت کر جایے کہ میری طرف سے نماز روزہ وغیرہ کا فدیہ ادا کردیں اور زکوۃ و حج ادا کر دیں۔ لیکن یہ وصیت جایداد کے 1/3 سے زیادہ ، وارثوں کی رضامندی کے بغیر عمل میں نہیں لایی جا سکتی۔ ایک نماز یا ایک روزہ کا فدیہ احتیاطا دو کلو گرام گندم یا اس کی قیمت ہے۔ جو روزے مرض الموت مٰیں قضا ہویے ہوں، ان کی قضا اور فدیہ واجب نہیں

 30.2  نماز روزہ کا فدیہ ادا کرنے کی ذمہ داری جو شخص نماز، روزہ ، حج وغیرہ کے ادا کرنے کی وصیت کر گیا ہو، اگر اس نے مال بھی چھوڑا ہے تو اس کی وصیت (ترکہ کے 1/3 کی حد تک) کا پورا کرنا اس کے وارثوں پر واجب ہے۔ اگر مال نہیں چھوڑا تو وارثوں کی مرضی پر موقوف ہے

31.0

شرعی قبضہ کی تعریف
قبضہ تخلیہ کے ذریعہ ہو سکتا ہے ۔ یعنی نیے مالک کو اپنی ملکیت میں کسی رکاوٹ کے بغیر استفادہ کا موقع دینا۔ مختلف چیزوں کے لیے اس کی صورتیں مختلف ہو سکتی ہیں۔ اس لیے کہ شریعت میں قبضہ کا لفظ مطلق (غیر مشروط) استعمال ہوا ہے ۔ چنانچہ اس کا تعین عرف عام کے ذریعہ کیا جایے گا (بحوالہ: مغنی جلد 6 صفحہ186 بموجب تحقیقیق ڈاکٹر عبداللہ ترکی وایس چانسلر امام محمد یونیورسٹی، ریاض)