اردو آسانی سے پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

الحمد لله رب العالمين(1) حمد الشاكرين(2) والصلاة والسلام على خير البرية محمد صلى الله عليه وسلم وآله الطيبين الطاهرين(3)

تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں (1) جیسا کہ شکر گزار بندے)تعریف کرتے ہیں) (2) اور صلوۃ و سلام ہو محمد صلى الله عليه وسلم پر جو مخلوق میں سب سے بہتر ہیں اور ان کی آل پر بھی جو کہ طیب اور طاہر ہیں(3)


قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : تعلموا الفرائض وعلموها الناس فإنها نصف العلم

رسول اللہ نے فرمایا : علم الفرائض پڑھو اور دوسروں کو پڑھاؤ کہ یہ نصف( 1/2 )علم ہے

أربعة أمور هامة

قال علماؤنا رحمهم الله تعالى تتعلق بتركة الميت حقوق أربعة مرتبة
الأوّل : يبدأ بتكفينه وتجهيزه من غير تبذير ولا تقتير
الثاني : ثم تقضى ديونه من جميع ما بقى من ماله
الثالث : ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما بقي بعد الدّين
الرابع : ثم يقسم الباقي بين ورثته بالكتاب والسنة وإجماع الأم

چار اہم امور
ہمارے علماء کہتے ہیں کہ میت کے ترکہ سے متعلق چار امور ترتیب واریوں ہیں
1.افراط و تفریط کے بغیر ( سنت کے مطابق) تجہیز و تکفین
2. جو مال بچ جائے اس میں سے میت کے ذمہ قرض کی ادائیگی
3. باقی ماندہ ترکہ کے 1/3 حصہ تک وصیت کی ادائیگی
4. باقی ترکہ کی قرآن و سنت اور اجماع امت کے مطابق ورثاء میں تقسیم


مراحل في تقسيم تركة

(1) فيبدأ بأصحاب الفرائض وهم الذين لهم سهام مقدرة في كتاب الله تعالى
(2) ثم بالعصبات من جهة النسب(11)، والعصبة كل من يأخذ ما أبقته أصحاب الفرائض وعند الانفراد يحرز جميع المال
(3) ثم بالعصبةِ من جهة السبب وهو مولى العتاقة
(4) ثم عصبته على الترتيب
(5) ثم الرد على ذوي الفروض النسبية بقدر حقوقهم
(6) ثم ذوي الأرحام
(7) ثم مولى الموالاة
(8) ثم المقر لـه بالنسب على الغير بحيث لم يثبت نسبه بإقراره من ذلك الغير إذا مات المقر على إقراره
(9) ثم الموصى له بجميع المال
(10) ثم بيت المال

تقسیم ترکہ میں مراحل
1. سب سے پہلے ذوی الفروض کو ان کا حصہ دیا جائے- اور یہ افراد وه ہیں کہ جن کے حصص ) بصورت کسر( مثل 1/4, 1/2 ) متعین ہیں -
2. جو ( مکسور) حصہ بچ جائے وہ عصبہ نسبی کو د یا جائے (11) اور عصبہ نسبی وہ افراد ہیں جو کہ ذوی الفروض سے بقیہ سارا پاتے ہیں خواہ وہ فرد واحد ہو یا زیادہ افراد ہوں
3. اگر کوئی عصبہ نسبی زندہ نہ ہو تو تب اگر مورث کسی( مرد ) عورت کا آزاد کردہ غلام (لونڈی) ہے تو مورث کے معتق ( آزاد کرنے والا) کو بحیثیت عصبہ نسبی یہ بقیہ دیا جائے گا
4. مولی عتاقہ زندہ نہ ہو تو مولی عتاقہ کے عصبات نسبی ( مذکر) بالترتیب ( حسب ضابطہ الاقرب فالا قرب) یہ بقیہ پائیں گے
5. اگر یہ زندہ نہ ہوں تو تب ( ذوی الفروض سے بقیہ) ذوی الفروض نسبی میں ان کے پہلے حاصل کردہ حصص کی نسبت سے بانٹ دیا جائے گا
6. ذوی الفروض نسبی زندہ نہ ہوں تو تب بقیہ از ذوی الفروض نسبی --- خاوند ( بیوی) ذوی الارحام ( کوڈ 151۔ 300) کو دیا جائے گا
7. ذ وی الارحام میں سے کوئی زندہ نہ ہو تو وہ بقیہ ( میت کے) مولی موالات کو دے دیا جائے گا
8. مولی موالات کوئی نہ ہو تو وہی بقیہ مقرلہ بالنسب علاتی غیر کو دیا جائے گا بشرطیکہ مورث مجہول النسب ہو نیز وہ مرتے دم تک اپنے اس اقرار پر قائم ہے
9. وہ بھی کوئی نہ ہو تو تب یہ بقیہ اس شخص کو دیا جائے گا جس کے لیے مورث نے کل ترکہ کی وصیت کی ہو
10. وہ بھی کوئی نہ ہو تو تب خاوند (بیوی) سے بقیہ بیت المال کو جائے گا


موانع الإرث

المانع من الإرث أربعة
(1) الرق وافراً كان أو ناقصا
(2) والقتل الذي يتعلق به وجوب القصاص أو الكفارة
(3) واختلاف الدينين
(4) واختلاف الدارين إما حقيقة كالحربي والذمي أو حُكماً كالمستأمن والذمي أوالحربيين من دارين مختلفين(25)، والدار إنما تختلف باختلاف المنعة والملك لانقطاع العصمة فيما بينهم

حق میراث سے محروم کرنے والے امور
یہ چار امور ہیں
1. غلامی خواہ کلی ہو یا جزوی۔ جزوی غلامی میں مکاتب، مدبر اور ام ولد بھی شامل
2. قتل کہ جس کے ارتکاب پر قصا ص یا کفارہ لازم آتا ہو۔ ( باپ اپنے بیٹا کو قتل کر دے تو تب قصاص یا کفارہ تو لازم نہ آئے گا تا ہم وہ اپنے بیٹا کے ترکہ سے محروم ہو گا
3. اختلاف دین ( یعنی مسلمان کسی کافر کا وارث نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اس کے برعکس
4. اختلاف دارین ( یعنی مورث اور وارث کے ملک کا مختلف یونا) خواہ یہ اختلاف
(ا ) حقیقی ہو ( یعنی مورث یا وارث میں سے ایک حربی ( دار الحرب کا باشندہ( ہو اور دوسرا ذ می ( دارالاسلام کا باشندہ
ب ) حکماً ہو ( یعنی ایک مستامن ( دارالاسلام میں پناہ لینے والا) اور دوسرا ذمی ہو یا
ج ) دونوں حربی ہوں اختلاف دارین کا لحاظ اس صورت میں ہو گا جبکہ دونوں ممالک کے مابین ) آج کل کے اعتبار سے( سفارتی تعلقات نہ ہوں